21 ستمبر 2017 - 17:25
انجمن شرعی شیعیان کے صدر دفتر پر یوم حسینؑ کی مناسبت سے شیعہ سنی جماعتوں کا محرم اجلاس

مختلف شیعہ سنی دینی، سیاسی و سماجی تنظیموں اور انجمنوں کے سربراہان اور نمایندگان کا مشترکہ محرم اجلاس جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر دفتر تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ مختلف شیعہ سنی دینی، سیاسی و سماجی تنظیموں اور انجمنوں کے سربراہان اور نمایندگان کا مشترکہ محرم اجلاس جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر دفتر تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں جن دینی و سیاسی جماعتوں اور سماجی انجمنوں کے سربراہان اور نمایندگان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شہدائے کربلاؑ کو خراج عقیدت پیش کیا اُن میں میر واعظ کشمیر و صدر متحدہ مجلس علما ڈاکٹر محمد عمر فاروق کے نمایندہ مولانا شمس الرحمان، انجمن حمایت الاسلام کے سربراہ مولانا خورشید احمد قانونگو، چیئر مین حریت کانفرنس سید علی شاہ گیلانی کے نمایندہ مولانا معراج الدین ربانی، انجمن شرعی شیعیان کے نمایندہ غلام محمد ناگو،جماعت اسلامی کے نمایندہ طارق احمد مکی،کاروان اسلامی کے نمایندہ گلزار احمد شیدائی، مجلس تحفظ اتحاد کے ڈاکٹر غلام محمد حبی، غلام قادر ڈار، غلام رسول حُر شامل ہیں۔

مقررین نے محسن اسلام و انسانیت سید شہدا حضرت امام حسین ؑ اور آپؑ کے ہم مشن جانبازوں کو عقیدت کا خراج نذر کرتے ہوئے معرکہ کربلا کو بلا لحاظ مذہب و ملت دنیا کی ہر مظلوم و محکوم اور ستم رسیدہ قوم کیلئے درس عزیمت قرار دیا۔ اجلاس میں تاریخی محرم جلوسوں پر 27 سال سے متواتر بلاجواز حکومتی قدغن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت مذکورہ جلوسوں پر لگی قدغن کو ختم کرنے کا فوری طور پر اعلان کرے۔ اجلاس ماہ محرم الحرام کی تقریبات کے شایا ن شان اور پُرامن انعقاد کیلئے متفقہ لائحہ عمل مرتب کیا گیا اور اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ ریاست جموں و کشمیر کی حساس سیاسی صورتحال، مختلف عناصر کے گھناونے عزائم اور عالم اسلام کے خلاف جاری صہیونی منصوبہ بندیوں کے پیش نظر محرم الحرام کے دوران آپسی اتحاد اور اخوت اسلامی کو قائم و دائم رکھنے کیلئے ہر سطح پر چوکسی کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے وادی کشمیر میں 15 سال سے شیعہ اور سنی دینی و سیاسی تنظیمیں ایک نمایاں اور نتیجہ خیز کردار ادا کر ری ہے۔اجلاس مین BJP کے سرکردہ لیڈر سبھرامنیم سوامی کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی جس میں انہوں نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا کہ ہندوں کو متحدکرنے اور مسلمانوں کو شیعہ سنی کے بنیاد پر بانٹنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ۔

اجلاس میں اس عزم کااعادہ کیا گیا کہ قوم کشمیر کے حقوق کی بازیابی کیلئے حسینیؑ عزم و استقامت کو مشعل راہ بناکر جدوجہد جاری رکھی جائے گی ۔دنیا کی مظلوم ترین اقلیت روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی پُر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک سے اپیل کی گئی کہ مظلومین میانمار کی نسل کشی کو روکنے کیلئے نتیجہ خیز اقدام کریں۔انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے تمام شرکاءاجلاس کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کربلا کا تعلق بلا لحاظ مذہب و ملت پوری عالم بشریت کے ساتھ ہے۔ امام حسین ؑ حق و انصاف جبکہ آپؑ کا مدمقابل ظلم و باطل کی علامت ہے۔ دنیا کی ہر انصاف اور انسانیت نواز قوم امام حسینؑ اور آپؑ کے ہم مشن جانبازوں کے عزم و ثبات کا اعتراف کرتی ہے۔انہوںنے کہا کہ ماہ محرم کو صرف شیعہ مسلمانوں کے ساتھ مخصوص کرنا مسلمانوں کے درمیان انتشار اور نا اتفاقی پیدا کرنے کی منصوبہ بند کوشش ہے۔ آغا حسن نے کہا کہ شیعہ سنی اکابرین وادی میں ملی اتحاد کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر مفاد خصوصی رکھنے والے عناصر کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲